ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یمنی ملیشیا کے مساجد پر چھاپے، خطیبوں کا اغوا، گرفتاریاں 

یمنی ملیشیا کے مساجد پر چھاپے، خطیبوں کا اغوا، گرفتاریاں 

Sun, 11 Dec 2016 11:58:30    S.O. News Service

صنعاء،10/دسمبر(ایس او نیوز /آئی این ایس انڈیا)یمنی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ملک کے مختلف شہروں کی مساجد پر چڑھائی کا ارتکاب کیا ہے اور وہاں اپنے حاشیہ بردار خطیب تعینات کر دیے ہیں۔ نیز ان مساجد کے اصل آئمہ کو گرفتار اور اغواء کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔انہیں ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے ذمار اور الجمعہ شہروں میں اسلحہ کے زور پر مختلف مسجدوں میں اپنے ہم خیال امام مسجد مقرر کئے ہیں جس کے باعث ان مساجد سے نمازیوں کی بڑی تعداد نے منہ موڑ لئے ہیں۔یمن کی آئینی حکومت کے زیر انتظام چلنے والی سرکاری نیوز ایجنسی 'سبا' نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ذمار شہر کی وسطی مسجد الاخضر میں حوثیوں کے تعینات خطیبوں نے جونہی منبر سنبھالے تو ایسے میں دسیوں نمازی صفیں چھوڑ کر مسجد سے باہر نکل گئے۔

یہ اقدام شہریوں کی جانب سے امر کا اظہار تھا کہ وہ شہر کی مساجد میں حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ایسے اقدامات سے نسلی امتیاز سمیت فرقہ وارایت کو فروغ مل رہا ہے۔ یہ اقدام سلف صالحین رہنماؤں کو ایذاء اور گالم گلوچ کے مترادف ہے۔البیضاء شہر میں حوثی ملیشیاؤں نے شہر کی التوحید مسجد پر چھاپہ مارا اور وہاں پہلے سے متعین امام مسجد کو اغوا کر لیا اور ان کی جگہ اپنے کاسہ لیس ”امام“کو مقرر کر دیا۔اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے چند دن پہلے مسجد التوحید کی دیواروں پر اپنے نعروں کی چاکنگ کی تھی اور مسجد کے چوکیدار کو دھمکی دی تھی کہ نعرے مٹانے کی صورت میں وہ مسجد کو شہید کر دیں گے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کے اہلکاروں نے دارلحکومت صنعاء کے مغربی علاقے میں القادسیہ مسجد سے نماز جمعہ پڑھ کر نکلنے والے تین نمازیوں کو اغوا کر لیا۔

ادھر تھامہ صوبہ کے میڈیا سینٹر نے صنعاء کی جنوب مغربی گورنری ریمہ میں حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک رپورٹ گزشتہ روز جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ باغی ملیشیا نے گورنری کی 35 مساجد میں زبردستی اپنے امام لگا دیئے ہیں۔ نیز ریمہ کی متعدد ڈائریکٹوریٹس میں تحفیظ القرآن کے کم سے کم بیس مراکز اور مدارس کی تالا بندی کی جا چکی ہے۔حوثیوں کی جانب سے 21سمتبر 2014سے یمنی دارلحکومت صنعاء کے محاصرے کے بعد سے شہر کی مساجد کے دسیوں خطیب دوسرے شہروں یا عرب ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں تاکہ وہ ”داعش“قرار دی جانے والی انتہا پسند تنظیم کے ہاتھوں اغوا اور تشدد کی کارروائیوں سے محفوظ رہ سکیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق جن مساجد کے آئمہ حوثیوں کی جکڑ بندیوں سے محفوظ رہے، ان کے اہل خانہ اور قریبی عزیز ایسی کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ آئمہ کے سیکڑوں اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔


Share: